ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Ghazlen - غزلیں

کیوں کر ہو کوئی اور تماشہ مرے آگے

کیوں کر ہو کوئی اور تماشہ مرے آگے
جب کوئی نہیں میرے علاوہ مرے آگے
کہہ لوں گا کسی روز تجھے ان کہی باتیں
اِک رستہ ابھی تک ہے غزل کا مرے آگے
میں بھی کسی دیوار کی صورت ہوں جہاں میں
سورج مرے پیچھے ہے تو سایہ مرے آگے
اِک تیرے دلاسے نے بچا رکھا ہے ورنہ
ٹوٹی ہے کئی بار یہ دنیا مرے آگے
میں اپنے تماشے میں ہوں مصروف ابھی تک
کیوں خاک اُڑاتا ہے یہ صحرا مرے آگے
منزل تو الگ کوئی نشاں تک نہیں پایا
چلتا ہی چلا جاتا ہے رستہ مرے آگے
میں آپ تماشا ہوں تماشائی بھی خود ہوں
کوئی بھی نہیں میرے علاوہ مرے آگے