ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Ghazlen - غزلیں

قیس کا شجرہ نہ کوئی ہم کو شہرت چاہئے

قیس کا شجرہ نہ کوئی ہم کو شہرت چاہیے
اک محبت چاہیے اور اُس میں شدت چاہیے
ہم جہاں پر ہیں وہاں خواہش کا ہونا ہے حرام
اور ہوں گے عشق میں جن کو سہولت چاہیے
ایک ہونا اور کچھ ہے ایک ہو جانا کچھ اور
آئینہ خانے نے سمجھایا کہ کثرت چاہیے
صاحبا! تنہائی و یکتائی دونوں ایک ہیں
میرے جیسے خود پسندوں کو تو وحشت چاہیے
زندگی مصروف تر ہے اور خدا مصروفِ کار
ایک میں ہی ہوں جسے پوری فراغت چاہیے
ہم نے خوشیاں بانٹ لیں آپس میں اور ہم بٹ گئے
جمع ہونے کے لیے کوئی مصیبت چاہیے
حضرتِ بوذر ؓ کے صدقے آج میں تنہا ہوا
اور اِس تنہائی میں اب مجھ کو برکت چاہیے