ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Ghazlen - غزلیں

سکوت بیت گیا گفتگو سنبھل کر ہو

سکوت بِیت گیا ، گفتگو سنبھل کر ہو
کہ جس میں خم نہیں وہ رو برو سنبھل کر ہو
ہمارے ہاتھ پہ جلتا ہے اک سنہری چراغ
ہوائے سرخ ہماری عدو سنبھل کر ہو
ہم اُس کو رُخ سے نہیں جانتے ہیں خوشبو سے
ہمارے سامنے اُس جیسا تُو سنبھل کر ہو
تمام جسم سے محسوس تجھ کو کرتا ہوں
جمالِ یار مرے چار سُو سنبھل کر ہو
بتا رہا ہے مِرا دل فریب سے پہلے
کہ اب کی بار کوئی جستجو سنبھل کر ہو
بچھڑ چکے ہو سمجھ میں تمہیں نہیں آتا
بچھڑ چکے ہو یہاں ہائے ھو سنبھل کر ہو
ندیمِؔدوست کا کیا فلسفہ سنائوں تمہیں
پیام آیا ہے اب ہُو بہو سنبھل کر ہو