ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Nazmen - نظمیں

اپنے خدا سے

جلا ہوا ہوں میں صدیوں سے جلتا آیا ہوں
میں کون ہوں نہ خبر ہے نہ جان پایا ہوں
میں تیری یاد کی شمعیں جلاتا پھرتا ہوں
میں تیرے نام کے نعرے لگاتا پھرتا ہوں
میں تپتی ریت پہ پودے لگانے والا ہوں
میں پیاسی دھرتی پہ پانی اُگانے والا ہوں
میں تیرے نام پہ مرنا قبول کرتا ہوں
سمندروں میں اُترنا قبول کرتا ہوں
بسے بسائے ہوئے گھر اُجڑتے دیکھے ہیں
اور اپنے نورِ نظر میں نے مرتے دیکھے ہیں
مری زبان پہ میخیں لگائی جاتی رہیں
مرے بدن پہ بھی چھُریاں چلائی جاتی رہیں
میں پھر بھی نام تِرا لیتا تھا سکون کے ساتھ
میں تجھ کو لکھتا رہا اپنے دل کے خون کے ساتھ
بہشت و حور کا لالچ نہ ہے نہ تھا کوئی
مجھے قبول نہیں ہے تِرے علاوہ کوئی
اگرچہ کچھ بھی نہیں ہوں حقیر تر ہوں میں
میں رقص کرتا ہوا مست ہوں قلندر ہوں
جہاں پہ آیا کبھی حرف تیری حرمت پر
تو پھر میں خاک نہیں ایک سخت پتھر ہوں
تجھے خبر ہے خدایا کہ میرا آج ہے کیا؟
ذلیل و خوار ہوا پھرتا ہوں زمانے میں
میں تیرے نام پہ جھکتا ہوں اوربکتا ہوں
یہ لوگ اپنی غلامی میں چاہتے ہیں مجھے
ترا غلام ہوں سو عام تو نہیں ہوں میں
گناہ گار ہوں بے نام تو نہیں ہوں میں
فریبِ نفی کے دھوکے میں اب نہیں رہوں گا
ترے ثبات کا پرچم اُٹھا کے ناچوں گا
میں اپنا چاک بنائوں گا اپنے ہاتھوں سے
اور اپنے آپ کو پھر سے بنا کے ناچوں گا
کہ عالمِ بشریّت مٹا کے ناچوں گا