ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Nazmen - نظمیں

نسل نو سے

مذاق اُڑا بھی چکے تم بہت محبت کا
کہ نسلِ نو کی رگوں میں اُتار دی شہوت
یہی وہ نسل تھی جس پر عروج آنا تھا
اسی نے سُوئے مدینہ تھی بھیجنی راحت
اِسی کے عزم سے اہلِ عرب نے جاگنا تھا
اِسی کے شوق نے دنیا کو فتح کرنا تھا
اِسی نے پھر سے سجانی تھی عشق کی محفل
کہ فاتحانہ جمانی تھی عشق کی محفل
یہ مادیت کا جنوں کب تھی عشق کی منزل
کہ عشق نے تو سراسر اِسے ذلیل کہا
ہزار بار کہا اور با دلیل کہا
فقط گھروں میں محبت تھی کب تھی گلیوں میں
ڈھکی چھُپی تھی اِسے بے لباس تم نے کیا
سو بے لباس محبت سے نسل خام ہوئی
کہ خاص خون کی مالک تھی پھر بھی عام ہوئی
نہ کوئی تاج ہے سر پر نہ گردنوں میںطوق
نہ خم خمیدہ میں باقی نہ سر اُٹھانے کا شوق
غلام ہو نہ سکے خود کو بادشا نہ کیا
بدن کومست رکھا دل نہیں دِوانہ کیا
بہت دلیر ہو سُوئے مدینہ جاتے ہو
سمجھ میں آتا نہیں کیا وہاں بتاتے ہو
کہ اب نہ مصر کا دکھ ہے نہ شام کا غم ہے
فقط ہے خون مسلمانوں میں لہو کم ہے
بکھر چکی ہے خلافت سو کوششیں بھی گئیں
جو آپ ﷺ نے ہمیں بخشیں تھیں ہمتیں بھی گئیں
بہت دلیر ہو روضے کی جالیوں کی طرف
نظر اُٹھا کے زیارت کا شوق رکھتے ہو
وہ دَور یاد کرو جب جنوں میں ڈوبے ہوئے
خبر سناتے تھے اصحاب کامیابی کی
مرے رسولﷺ کا چہرہ چمکنے لگتا تھا
کہ شوقِ دید میںبیٹھوںکی عید ہوتی تھی
ہراک نگاہ خدا کی شہید ہوتی تھی