آگـ بجھا رہا ہوں میں
پانی پلا رہا ہوں میں
آنکھیں بنا رہا ہے تو
آنسو بہا رہا ہوں میں
دل تو نہیں ملا سکا
رستے ملا رہا ہوں میں
اسـ کے بدن کی دھوپـ میں
دریا سکھا رہا ہوں میں
دودِ چراغِ عشق کو
شعلہ بنا رہا ہوں میں
جھیل میں تیرا عکس ہے
پانی ہلا رہا ہوں میں
اسـ کو سکھائی کافری
جس کا خدا رہا ہوں میں
پانی پلا رہا ہوں میں
آنکھیں بنا رہا ہے تو
آنسو بہا رہا ہوں میں
دل تو نہیں ملا سکا
رستے ملا رہا ہوں میں
اسـ کے بدن کی دھوپـ میں
دریا سکھا رہا ہوں میں
دودِ چراغِ عشق کو
شعلہ بنا رہا ہوں میں
جھیل میں تیرا عکس ہے
پانی ہلا رہا ہوں میں
اسـ کو سکھائی کافری
جس کا خدا رہا ہوں میں

