حضور ﷺ نعت کا مطلع سجا دیا جائے

حضور ﷺ آپ کے قدموں میں سر رکھا میں نے
حضور ﷺ عرض ہے سجدہ سکھا دیا جائے

ہمیں چراغ بناتا ہے یا علی کہنا

وہ اس لیے کہ ترے علم میں اضافہ ہو
کئی سوال اٹھاتا ہے یا علی کہنا

ہے جو غلامِ محمد ﷺ وہ ہے غلامِ علی

ہم اہلِ ہند غضب کے ہیں رند اور ہمیں
حسن حسین پلاتے ہیں بھر کے جامِ علی

حضورِ عشق ہر اک مرتبہ حسین کا ہے

حسین منی سے پڑھ یا من الحسین سے پڑھ
کہ اب زمین کا ہر قاعدہ حسین کا ہے

صحرا میں اک پھول ہے جس میں ہر ہر رنگ

چاند کا اک دربار ہے تارے درباری
تین سو تیرہ مست ہیں یعنی سات ملنگ

روح حاضر ہے مرے یار کوئی مستی ہو

مجھ کو مٹی کے پیالے میں پلا تازہ شراب
جسم ہونے لگا بے کار کوئی مستی ہو

دھرتی کے بادشاہ کو صرف نگر دکھائی دے

‏ ‏سوچ ہمارے ذہن سے اس بے مثال کا جمال
‏دیکھ ہماری آنکھ سے تجھ کو اگر دکھائی دے

حسن ہمہ تن گوش ہے عشق سلام کرے

عشق شریعت ساز ہے عشق طریقت سوز
حکم چلائے آپ پر آپ غلام کرے

سخن گویم بہ طرزِ اُو ھو الحق ھو،ھوالحق ھو

میں اُس کے عشق کی مستی ، میں اُس کے حُسن کی شوخی
میں اُس کے رُو برو ھو ھو، ھو الحق ھو،ھوالحق ھو

ہم پاپی سرکار کے تم تعظیم کرو

آنکھوں بھوکے لوگ ہیں چوکھٹ پر آئے
لنگر اپنےحسن کا اب تقسیم کرو

وہ بڑی بن کے زمانے سے لڑی جاتی ہے

اب یہ بندھن مری سانسوں کے لیے بندش ہے
اب انگوٹھی مری انگلی میں گڑی جاتی ہے

جلال میں بھی کوئی ڈھونڈ لے جمال تو پھر

سمجھ میں آئیں گے تجھ کو بھی ڈھلتی عمر کے دکھ
بدل گئے کبھی تیرے بھی خدوخال تو پھر

نیند کی چاندنی خواب کا رتجگا ایک خیمے میں محفل سجائی گئی

بانس اور دھات سے ایک آواز نکلی تو خسرو کے سینے میں سُر بھر گئے
ہند کے ساز پر ترک تاریں جڑیں خواجگاں کے لیے دھن بنائی گئی

آگ بجھا رہا ہوں میں

آنکھیں بنا رہا ہے تو
آنسو بہا رہا ہوں میں

روح کو وجد میں لا رقص دکھا

آسماں روند کبھی پیروں میں
اور زمیں سر پہ اٹھا رقص دکھا

اک کارواں بنا تو بنے کارواں کے لوگ

ہم جیسے ہیں مگر وہ ہماری طرح نہیں
آئے ہیں کائنات میں قبل از جہاں کے لوگ

بجھ چکی آگ دل جلا ہی نہیں

اپنے محبوب کے تصور میں
میں بھی تنہا ہوں بس خدا ہی نہیں

وہ اندھیرا تھا ، اندھیرے میں ، دیا میں بھی تھا

عمر بھر کوئی نہیں رہتا کسی کے دل میں
آج کل تو ہے کبھی تیری جگہ میں بھی تھا

بنا کے راکھ ہوا میں اڑا دیا پتھر

کسی کے ہجر نے آواز چھین لی میری
پھر انتظار نے مجھ کو بنا دیا پتھر

زمین کی خود نمائیوں میں الجھ چکا ہوں

مجھے زیادہ ڈرا دیا ہے معاشرے نے
کچھ اس لیے بھی کمائیوں میں الجھ چکا ہوں

حجتِ قال اور ہے عظمتِ حال اور ہے

سرخی عشق پر نہ بھول طرزِ جمال کو سمجھ
شام کا رنگ اور ہے رخ پہ گلال اور ہے

بڑھ کر نہ لڑا کوئی بتائی ہوئی حد سے

میں صفر کہ جس کی کوئی قیمت ہے نہ قامت
اعداد نکالے گئے مجھ غیر عدد سے

میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں

بخت ہوں اور مجھے ڈھونڈنے والے ہیں بہت
حسن ہوں اور حسیناؤں میں دیکھا گیا ہوں

راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتا

عشق اتنا بھی کیا ضروری ہے
کوئی بے عشق مر نہیں جاتا

اس کی آنکھوں کے دریچوں میں رہا کرتے تھے

اے محبت کو بڑا کام سمجھنے والو
یہ بڑا کام کبھی ہم بھی کیا کرتے تھے

دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے

میں نے منزل کی دعا مانگی تھی
میری رفتار بڑھا دی گئی ہے

ہمارے حافظے بے کار ہو گئے صاحب

اسے بھی شوق تھا تصویر میں اترنے کا
تو ہم بھی شوق سے دیوار ہوگئے صاحب

مل رہے ہو بڑی عقیدت سے

ہم زیادہ بگاڑ دیتے ہیں
بچ کے رہنا ہماری صحبت سے

دیکھو اس کا ہجر نبھانا پڑتا ہے

سنتے کب ہیں لوگ ہمیں بس دیکھتے ہیں
چہرے کو آواز بنانا پڑتا ہے

تمام عمر جلے اور روشنی نہیں کی

ستم تو یہ ہے کہ میرے خلاف بولتے ہیں
وہ لوگ جن سے کبھی میں نے بات بھی نہیں

دیکھ چکے جب دنیا ساری مست ہوئے

آدم سے لے کر مجھ تک آنکھوں والے
دیکھ کے اس کو باری باری مست ہوئے

ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیا

دنیا مستوں کو بے علم سمجھتی تھی
ہم نے پھر قرآن سنا کر رقص کیا

شور اگر ہوتا تو کہتا شیشہ ٹوٹنے والا ہے

میں وہ شخص ہوں جس نےکسی کے بہتے آنسو روکے ہیں
مجھے بتاؤ کہاں کہاں سے دریا ٹوٹنے والا ہے

دکھا رہا ہوں تماشہ سمجھ میں آجائے

یہ لوگ جا تو رہے ہیں نئے زمانے میں
دعا کرو انہیں رستہ سمجھ میں آ جائے

صدا لپیٹ کے دل جائیں گے وگرنہ نہیں

وہ آج دریا سے لڑنے کی ٹھان کر گئے ہیں
کہیں کنارے پہ مل جائیں گے وگرنہ نہیں

عبد ہونے کا تجربہ کیا ہے

تم انہیں بارشیں سمجھتے ہو
ہم نے رونے کا تجربہ کیا ہے

بس یہی کچھ ہے مرتبہ مرے پاس

تجھے کچھ وقت چاہئے مری جان
وقت ہی تو نہیں بچا مرے پاس

شدید گریہ کا مطلب بتا رہا تھا ہمیں

ہم اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ کی طرف بھاگے
پتہ چلا کہ وہ رستہ دکھا رہا تھا ہمیں

چشمِ نمناک نے سمجھنا ہے

کتنا پانی ہے تیری آنکھوں میں
ایک تیراک نے سمجھنا ہے

نظر اٹھا کے مرے سامنے کھڑے ہو تم

یہ ٹہنیاں نہیں دیکھو تو میری بانہیں ہیں
اور ان سے پھول نہیں دوستو جھڑے ہو تم

کہنے لگے درخت سہارا کوئی تو ہو

کچھ اس لیے بھی تم سے محبت ہے مجھ کو دوست
میرا کوئی نہیں تمہارا کوئی تو ہو

رات خاموش ہوئی اور پکاری گئی صبح

اے سخن ساز بدن تیرے لیے شام بنی
اے رضا مند ہنسی تجھ پہ اتاری گئی صبح

عجیب منطق سے دل ہمارے بھرے ہوئے ہیں

وصال کو ہجر کہتے کہتے گزر رہی ہے
کسی کی قربت سے اس قدر ہم ڈرے ہوئے ہیں

مجھ پہ راز کھل چکا مرے دوست

میں اکیلا لڑوں گا دنیا سے
تیرے ذمے فقط دعا مرے دوست

گلاب تھے بکھر گئے

مزار تو نہ بن سکے
کبوتروں سے بھر گئے

مشورہ مان دوستا خاموش

میں بہت بولتا تھا سو مجھ کو
نعمتوں سے کیا گیا خاموش

بچھڑ رہے تھے کوئی حوصلہ ضروری تھا

انہی دنوں مجھے جب مل رہے تھے دوسرے لوگ
انہی دنوں ترا ملنا بڑا ضروری تھا

کسی نگاہ کی تاثیر ہو کے کھلتے ہیں

ملے بغیر کبھی رد ہمیں نہیں کرنا
کئی حجاب بغلگیر ہو کے کھلتے ہیں

قیس کا شجرہ نہ کوئی ہم کو شہرت چاہئے

ہم جہاں پر ہیں وہاں خواہش کا ہونا ہے حرام
اور ہوں گے عشق میں جن کو سہولت چاہئے

گزر چکے ہیں جو ان کے نشاں ہی دیکھ آئیں

گذشتگان کی محرومیاں ہی دیکھ آئیں
کھنڈر میں بکھری ہوئی رسیاں ہی دیکھ آئیں

قیس و لیلیٰ کا طرف دار اگر مر جائے

پھر خدایا تجھے سورج کو بجھانا ہوگا
آخری شخص ہے بیدار اگر مر جائے

وہ ہاتھ ہاتھوں میں تھام کر مسکرا رہا ہوں

ابھی اسے خواب جیسی نعمت نہیں دکھائی
ابھی تو میں اس کو صرف دنیا دکھا رہا ہوں

موازنہ اگر اپنا کتاب سے کرے گی

ہمیں کہے گی کہ خوابوں میں چھوڑ دو رہنا
پھر اپنی بات کا آغاز خواب سے کرے گی

یہ نہر اور کنارے تمہیں سمجھتے ہیں

ہمیں تو چھوڑو کہ ہم اس جہاں کے ہیں ہی نہیں
سوال یہ ہے تمہارے تمہیں سمجھتے ہیں

ہر دعا میری بے اثر تو نہیں

تو کوئی اور کوزہ گر تو نہیں
میں کسی اور چاک پر تو نہیں

مشورہ جو بھی ملا ہم نے وہی مان لیا

ہاتھ اٹھایا تھا ستاروں کو پکڑنے کے لیے
چرخ نے چاند کو خنجر کی طرح تان لیا

ہے مرے واسطے دعا مرا عشق

بس تجھے مانگنا نہیں آیا
میری جھولی تو بھر چکا مرا عشق

میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں

ابھی تو اس سے ملنے کا بہانہ اور کرنا ہے
ابھی تو اس کے کمرے میں نشانی چھوڑ آیا ہوں

سہولت ہو اذیت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے

ہمارے رابطے ہی اس قدر ہیں تم ہو اور بس تم
تمہیں سب سے محبت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے

فلک کے چاند کو غرقاب دیکھنے کے لیے

بوقتِ فجر بلائے گئے ہیں مسجد میں
تمام رات کے بے تاب دیکھنے کے لیے

صحرا میں جا رہے ہو تم مجنوں اگر دکھائی دے

میرے سوا کوئی نہیں میں بھی اگر یہاں نہیں
پھر یہ حجاب کس لیے نیچے اتر دکھائی دے

اب ہیں وہ نامرادیاں عشق کی تاب بھی نہیں

ایسا ہوا ہوں رائیگاں عمر گزر گئی مگر
کوئی گناہ بھی نہیں کوئی ثواب بھی نہیں

چلا گیا ہے وہ لیکن نشان اب بھی ہیں

یہ اور بات کہ رہنا مرا گوارا نہیں
تمہارے شہر میں خالی مکان اب بھی ہیں

اک گلی اک گلی کے ساتھ بنی

وہم پر رکھ دیے گئے چہرے
آئنوں میں ہماری ذات بنی

بہت شدت سے جو قائم ہوا تھا

کھجوروں کے درختوں سے بھی اونچا
مرے دل میں تمہارا مرتبہ تھا

جلوۂ نور کے لیے جسم نقاب ہوگیا

عمر کے کاروبار میں سانسوں پہ بات رک گئی
بات ابھی چلی نہ تھی اور حساب ہوگیا

ایک سخن کو بھول کر ایک کلام تھا ضرور

یونہی نہیں تمام عمر سجدے میں ہی گزر گئی
عشق کی اس نماز کا کوئی امام تھا ضرور

صفحے پلٹ رہا ہوں میں شعر سنا رہا ہوں میں

کھونا تھا جس کو کھو چکا رونا تھا جتنا رو چکا
خود سے مذاق کر کے اب خود کو ہنسا رہا ہوں میں

جیسا ہوں ، جس حال میں ہوں ، اچھا ہوں میں

دل کے کعبے میں دو چار صنم بھی ہوں
ایک خدا کے ساتھ بہت تنہا ہوں میں

خشک پتوں کی صورت بکھر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا

راستے میں کوئی جن بھی آسکتا ہے اس کہانی میں بھی
میری شہزادی پھر میں کدھر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا

یہ لوگ اس لیے مجھ کو گلے لگا رہے ہیں

ابھی تو رقص کا آغاز بھی نہیں ہوا ہے
ابھی ملنگ قدم سے قدم ملا رہے ہیں

چھوٹے ہونے لگے بڑے میرے

باپ کے دشمنوں کی فتح ہوئی
بھائی آپس میں لڑ پڑے میرے

شامِ غمِ حسین میں نامِ علی لیا گیا

خیمے جلا دیے گئے پھر یہ فضول بحث ہے
ایسے نہیں کیا گیا ویسے نہیں کیا گیا

شامِ غم کے سب سہارے ٹوٹ کر

اکـ تمہارا عشق زندہ رہ گیا
مر گئے ہم لوگـ سارے ٹوٹـ کر

خدا ملاتے ہیں ذوقِ خدائی دیتے ہیں

ہزار حیف وہ لشکر نہ سن سکا لیکن
حسین ہند میں اب تک سنائی دیتے ہیں

سخن تماشہ بناشاعری خراب ہوئی

شکوہِ کارِ سخن ائے بلند گویائی
تجھے سنوار کے دنیا مری خراب ہوئی