ایمان
سہیلیوں نے کہا
دور فلسفے کا نہیں
دلوں میں بات نہیں صرف خون ہوتا ہے
ملنگ
ہاتھوں سے کشکول نے پوچھا
کتنے در باقی ہیں
اس بستی میں کتنے گھر باقی ہیں
واپسی
اگر آگ ہو تو
مری لکڑیوں سے ہی بھڑکو گے اک دن
اگر آب ہو تو
شاعر
آخری جملہ بول دیا جائے تو بات مکمل ہو جاتی ہے
آنکھیں اشکوں سے بھر جاتی ہیں
اور سارے منظر دھندلے ہو جاتے ہیں
موتو قبل انت موتو
جوانی اس گلی کی دھول میں لپٹی ہوئی میں چھوڑ آیا ہوں
وہ رشتے توڑ آیا ہوں جو زنجیروں کی صورت تھے
وہ گلیاں چھوڑ آیا ہوں جو منزل تک پہنچتی تھیں
زندگی کو چرانے چلتے ہیں
اُنہی گلیوں سے جن پہ بچپن میں
نرم پوروں سے لفظ کاڑھے تھے
لفظ جن کے معانی اپنے تھے
الوداعیہ
مرے عشق دعائیں لیتا جا
مجھے چھوڑ کے جا یا توڑ کے جا
مجھے دیکھ نہیں منہ موڑ کے جا
درد بھری
درد بھری نے آنسو پونچھے
کائنات کی ساری رونے والی آنکھیں
درد بھرے رومال میں اتریں
نظم نامہ
نظم باھو کا عرفان ، بلھے کا وجدان خواجہ کی دستار ہے
نظم خسرو کی مستی ہے منصور کا دار ہے
نظم رومی و سعدی و اقبال و عطار ہے
مسافتیں
تھکن سے اب جبینوں پر
پسینے کی جگہ بس خون رستا ہے
لہو جیسے رگوں کو چھوڑ کر
فصیلِ عشق کی بنیاد سے آواز آئی
خیالِ یار کی انگلی کسی معصوم جذبے نے پکڑ لی ہے
فصیلِ عشق کی بنیاد سے آواز یہ آئی
کہ بابا ضد نہیں کرتے
چرخہ
ہمارا مذہب تو عشق ہے
جس کی ابتدا بھی اور انتہا بھی
کسی بھی اندھے واقعے سے جڑی ہوئی ہے
کبھی تم سامنے آؤ
ہمیشہ خواب بن کر خواہشوں کی آنکھ میں تم گم ہی رہتے ہو
لرزتے سائے کی صورت ہمیشہ دسترس سے دور رہتے ہو
کبھی تم سامنے آؤ
سمجھوتہ
آؤ ہم اس عشق کا کوئی نام رکھیں
کچھ سپنے ایسے بھی ہوتے ہیں
جن کو صرف کھلی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے
مادھو لعل
قبرستان کے گرد بنے بازار میں
مردہ لوگوں کو میں دیکھ رہا ہوں
دھول میں لپٹی چوپڑی روٹی
عشق میں ہارے ہوئے جسم
تم نے دیکھی ہے کبھی
عشق کے مست قلندر کی دھمال
درد کی لے میں پٹختا ہوا سر اور تڑپتا ہوا تن من
کہے فقیر ندیم
ہم کھوئے پاک جمال میں ہم مست ہوئے مستور
ہم سمجھے رمز حضور کی ہم ناچے پیش حضور
حال
اے خدا تجھ میں کھو گیا تھا میں
لوگ کرتے رہے نماز ادا
اور مسجد میں سو گیا تھا میں
دھرتی ولوں ( پنجابی )
اساں سِویاں لگے بانس ہاں تے اجڑے ہوئے شہر
کدی آ اساڈے کول وی تے ویکھ اساڈی لہر
کدی شاہ رگ ساڈی چھوڑ کے ساڈے دل دے اندر ٹھہر
اساں کنوں کہیے شاہ حسین ( پنجابی )
اساں کنوں کہیے شاہ حسین
انج لوری دتی ماں نے سانوں پکی نیندر آ گئی
فر دھرتی سینہ پاڑیا ساڈی مزدوری وی کھا گئی
مثنوی مدینہ طیبہ
جو تجلی وہاں پہ طور میں ہے
وہ تجلی یہاں کھجور میں ہے
پاؤں سے سر تک مسافت
میرے سورج اَب کبھی چھپنا نہیں
تاکہ اپنے سایے کو ہی روندنے کا یہ سفر جاری رہے
اور وجد بھی طاری رہے
خسارا
مرے اشعار مجھ سے روٹھ جاتے ہیں
کہ میں اس ریتلی مٹی سے جتنے بھی بناتا ہوں
کھلونے ٹوٹ جاتے ہیں
ڈھول بجنے لگا
ڈھول ہے یا کہ تاریخ ہے کرہ اَرض کی
تال ہے یا محبت کا انجام ہے
رقص ہے یا تمہارا مرا نام ہے
روہی پیر فریدؒ کی
روہی کی سنسان شبوں میں اپنے آپ کو کھو دیا
جسم کھجوروں کی شاخوں پہ ’’ڈوکا ڈوکا‘‘ پرو دیا
دیکھ کے حال ہمارا ریت کا ذرہ ذرہ رو دیا
تم میری ضرورت ہو
میں بول نہیں سکتا
تم لفظ کی صورت ہو
تم میری ضرورت ہو

