اب ہیں وہ نامرادیاں عشق کی تاب بھی نہیں
چہرے پہ ہجر بھی نہیں آنکھوں میں خواب بھی نہیں
ایسا ہوا ہوں رائیگاں عمر گزر گئی مگر
کوئی گناہ بھی نہیں کوئی ثواب بھی نہیں
عشق نہیں نبھا سکا ہجر نبھا رہا ہوں میں
یعنی خراب ہوں مگر پورا خراب بھی نہیں
دشتِ وفا میں پیاس کے خیمے کہاں لگائیں ہم
پانی تو بات دور کی کوئی سراب بھی نہیں
دوست کہیں پہ بیٹھ کے گنتے ہیں رائیگانیاں
میں بھی ہوں بدحساب اور تیرا حساب بھی نہیں
چہرے پہ ہجر بھی نہیں آنکھوں میں خواب بھی نہیں
ایسا ہوا ہوں رائیگاں عمر گزر گئی مگر
کوئی گناہ بھی نہیں کوئی ثواب بھی نہیں
عشق نہیں نبھا سکا ہجر نبھا رہا ہوں میں
یعنی خراب ہوں مگر پورا خراب بھی نہیں
دشتِ وفا میں پیاس کے خیمے کہاں لگائیں ہم
پانی تو بات دور کی کوئی سراب بھی نہیں
دوست کہیں پہ بیٹھ کے گنتے ہیں رائیگانیاں
میں بھی ہوں بدحساب اور تیرا حساب بھی نہیں

