بنا کے راکھ ہوا میں اڑا دیا پتھر
فقیر آگ سے کھیلا جلا دیا پتھر
کسی کے ہجر نے آواز چھین لی میری
پھر انتظار نے مجھ کو بنا دیا پتھر
وہ باوفا تھا مگر مستقل مزاج نہ تھا
سو اس کے ہاتھ میں میں نے تھما دیا پتھر
وہی زمین کہ بنجر کہا گیا ہے جسے
اس زمین پہ میں نے اگا دیا پتھر
بہت غرور میں رہتا تھا آسمان پہ چاند
پھر آدمی نے اسے بھی بنا دیا پتھر
فقیر آگ سے کھیلا جلا دیا پتھر
کسی کے ہجر نے آواز چھین لی میری
پھر انتظار نے مجھ کو بنا دیا پتھر
وہ باوفا تھا مگر مستقل مزاج نہ تھا
سو اس کے ہاتھ میں میں نے تھما دیا پتھر
وہی زمین کہ بنجر کہا گیا ہے جسے
اس زمین پہ میں نے اگا دیا پتھر
بہت غرور میں رہتا تھا آسمان پہ چاند
پھر آدمی نے اسے بھی بنا دیا پتھر

