بڑھ کر نہ لڑا کوئی بتائی ہوئی حد سے
میں ہار گیا جنگ فرشتوں کی مدد سے
میں صفر کہ جس کی کوئی قیمت ہے نہ قامت
اعداد نکالے گئے مجھ غیر عدد سے
گنتی سے ادھر اور مکاں سے بھی کہیں دور
مجھ ایک کو اک کام ہے اللہ احد سے
کچھ شعر مرے رُومی و بیدل نے سنے ہیں
باھو کی صدارت میں محمد کی سند سے
پھر رات نے آ کر کہیں خوابوں میں چھپایا
سورج نے ڈرایا تھا مجھے میرے ہی قد سے
میں نے تو جزا اور سزا بھی نہیں دینی
پھر کیوں نہ بنے میری ہر اک نیک سے بد سے
میں ہار گیا جنگ فرشتوں کی مدد سے
میں صفر کہ جس کی کوئی قیمت ہے نہ قامت
اعداد نکالے گئے مجھ غیر عدد سے
گنتی سے ادھر اور مکاں سے بھی کہیں دور
مجھ ایک کو اک کام ہے اللہ احد سے
کچھ شعر مرے رُومی و بیدل نے سنے ہیں
باھو کی صدارت میں محمد کی سند سے
پھر رات نے آ کر کہیں خوابوں میں چھپایا
سورج نے ڈرایا تھا مجھے میرے ہی قد سے
میں نے تو جزا اور سزا بھی نہیں دینی
پھر کیوں نہ بنے میری ہر اک نیک سے بد سے

