بجھ چکی آگ دل جلا ہی نہیں

بجھ چکی آگ دل جلا ہی نہیں
ہاں وہی عشق جو ہوا ہی نہیں
اپنے محبوب کے تصور میں
میں بھی تنہا ہوں بس خدا ہی نہیں
ہجر تو بے شمار ہے مرے پاس
ہجر تو میرا مسئلہ ہی نہیں
فائیدہ غیر بھی اٹھاتے ہیں
میں بھی جلتا ہوں بس دیا ہی نہیں
حسنِ بے خوف تجھ کو کیا معلوم
مجھ ہوس کو تو جانتا ہی نہیں
شاہزادے تجھے مبارک ہو
تیری قسمت میں بادشاہی نہیں
تجھ سے بڑھ کوئی نہیں مجھ کو
تجھ سے بڑھ کر کوئی ملا ہی نہیں
کس لیے ہو کے ہم دکھائیں تجھے
جبکہ ہونے کا فائیدہ ہی نہیں