چھوٹے ہونے لگے بڑے میرے

چھوٹے ہونے لگے بڑے میرے
اب کہاں میں کہاں دھڑے میرے
باپ کے دشمنوں کی فتح ہوئی
بھائی آپس میں لڑ پڑے میرے
سوہنی کو پسند آئے نہیں
تیرتے رہ گئے گھڑے میرے
ہے دوپٹہ ترا مری دستار
اور کنگن ترے کڑے میرے
کشتیوں پر سفر کیا میں نے
پانیوں پر نشان پڑے میرے
دھوپ جھلسا رہی ہے چہرے بھی
پھول ایسے نہیں جھڑے میرے
بیٹھ کر اس سے بات کرنا تھی
جا چکا جو کھڑے کھڑے میرے
اک نیا شہر بس رہا ہے ندیم
محل اس کے ہیں جھونپڑے میرے