دیکھ چکے جب دنیا ساری مست ہوئے

دیکھ چکے جب دنیا ساری مست ہوئے
دیکھو ہم جیسے انکاری مست ہوئے
آدم سے لے کر مجھ تک آنکھوں والے
دیکھ کے اس کو باری باری مست ہوئے
اس نے پہلی بار سجانا ہے خود کو
زیور کپڑے اور الماری مست ہوئے
ایک فقیر نے آنکھ اٹھا کر کیا دیکھا
شاہ سمیت سبھی درباری مست ہوئے
مستوں کی مخمور نگاہوں میں کھو کر
خاکی بادی نوری ناری مست ہوئے