دھرتی کے بادشاہ کو صرف نگر دکھائی دے

دھرتی کے بادشاہ کو صرف نگر دکھائی دے
اور وہ کیا کریں جنہیں چاند پہ گھر دکھائی دے
‏ ‏سوچ ہمارے ذہن سے اس بے مثال کا جمال
‏دیکھ ہماری آنکھ سے تجھ کو اگر دکھائی دے
‏ ‏کھینچ لکیر چاند پر ماہ کو نصف کر کے مل
‏آدھا خدا سجھائی دے آدھا بشر دکھائی دے
‏ ‏میرے سوا کوئی نہیں میں بھی اگر یہاں نہیں
‏پھر یہ حجاب کس لیے نیچے اتر دکھائی دے
‏ ‏اپنے خدا سے آج میں نشے میں مل کے رو دیا
‏روتے ہوئے اسے کہا پردہ نہ کر دکھائی دے