دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے
کسی غفلت کی سزا دی گئی ہے
میں نے منزل کی دعا مانگی تھی
میری رفتار بڑھا دی گئی ہے
اب یہاں سے نہیں جا سکتا کوئی
اب یہاں شمع جلا دی گئی ہے
عیب دیوار کے ہوں گے ظاہر
میری تصویر ہٹا دی گئی ہے
میں نے اک دل پہ حکومت چاہی
مجھے تلوار تھما دی گئی ہے
اب محبت کا سبب وحشت ہے
ورنہ حسرت تو مٹا دی گئی ہے
اس لیے جم کے یہاں بیٹھا ہوں
مجھ کو میری ہی جگہ دی گئی ہے
مجھ میں اب پھول نہیں کھل سکتے
میری اب خاک اڑا دی گئی ہے
کسی غفلت کی سزا دی گئی ہے
میں نے منزل کی دعا مانگی تھی
میری رفتار بڑھا دی گئی ہے
اب یہاں سے نہیں جا سکتا کوئی
اب یہاں شمع جلا دی گئی ہے
عیب دیوار کے ہوں گے ظاہر
میری تصویر ہٹا دی گئی ہے
میں نے اک دل پہ حکومت چاہی
مجھے تلوار تھما دی گئی ہے
اب محبت کا سبب وحشت ہے
ورنہ حسرت تو مٹا دی گئی ہے
اس لیے جم کے یہاں بیٹھا ہوں
مجھ کو میری ہی جگہ دی گئی ہے
مجھ میں اب پھول نہیں کھل سکتے
میری اب خاک اڑا دی گئی ہے

