اک کارواں بنا تو بنے کارواں کے لوگ
یوں آگئے زمیں پہ مرے آسماں کے لوگ
ہم جیسے ہیں مگر وہ ہماری طرح نہیں
آئے ہیں کائنات میں قبل از جہاں کے لوگ
گریہ میں دلکشی نہ رہی میر سے کہو
اب قہقہے لگاتے ہیں آہ و فغاں کے لوگ
آتش میں جل سکے نہ ہواؤں میں اڑ سکے
پانی میں بہہ گئے ہیں مرے خاکداں کے لوگ
دیکھا تو کوئی بھی نہ دکھائی دیا مجھے
سوچا تو آ گئے کئی وہم و گماں کے لوگ
موجود جو نہیں ہیں تو پھر یوں ہی جانیے
اگلے جہاں میں ہیں مرے پچھلے جہاں کے لوگ
غالب فراق باھو و بلھا جنابِ میر
یہ لوگ ہیں ندیم مرے خانداں کے لوگ
یوں آگئے زمیں پہ مرے آسماں کے لوگ
ہم جیسے ہیں مگر وہ ہماری طرح نہیں
آئے ہیں کائنات میں قبل از جہاں کے لوگ
گریہ میں دلکشی نہ رہی میر سے کہو
اب قہقہے لگاتے ہیں آہ و فغاں کے لوگ
آتش میں جل سکے نہ ہواؤں میں اڑ سکے
پانی میں بہہ گئے ہیں مرے خاکداں کے لوگ
دیکھا تو کوئی بھی نہ دکھائی دیا مجھے
سوچا تو آ گئے کئی وہم و گماں کے لوگ
موجود جو نہیں ہیں تو پھر یوں ہی جانیے
اگلے جہاں میں ہیں مرے پچھلے جہاں کے لوگ
غالب فراق باھو و بلھا جنابِ میر
یہ لوگ ہیں ندیم مرے خانداں کے لوگ

