گلاب تھے بکھر گئے

گلاب تھے بکھر گئے
مرے ملنگ مر گئے
مزار تو نہ بن سکے
کبوتروں سے بھر گئے
بہت سے لوگ تھے کبھی
بہت اداس کر گئے
اڑے تھے ایک دھول میں
اور آسمان پر گئے
چھڑی تھی میرے ہاتھ میں
تمام سانپ ڈر گئے
پہاڑ راستے میں تھے
پہاڑ روند کر گئے
گلے تھے آسمان سے
زمین میں اتر گئے