گزر چکے ہیں جو ان کے نشاں ہی دیکھ آئیں
بجھی ہے آگ تو چل کر دھواں ہی دیکھ آئیں
گذشتگان کی محرومیاں ہی دیکھ آئیں
کھنڈر میں بکھری ہوئی رسیاں ہی دیکھ آئیں
ضرورتیں نہ سہی خواہشیں تو پوری ہوں
خرید سکتے نہیں تو دکاں ہی دیکھ آئیں
گریز کرتی ہوئی خلق سے ذرا ہٹ کر
کلام کرتی ہوئی کھڑکیاں ہی دیکھ آئیں
طواف کرتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھے ہوئے
ہم اپنے یار کا خالی مکاں ہی دیکھ آئیں
بجھی ہے آگ تو چل کر دھواں ہی دیکھ آئیں
گذشتگان کی محرومیاں ہی دیکھ آئیں
کھنڈر میں بکھری ہوئی رسیاں ہی دیکھ آئیں
ضرورتیں نہ سہی خواہشیں تو پوری ہوں
خرید سکتے نہیں تو دکاں ہی دیکھ آئیں
گریز کرتی ہوئی خلق سے ذرا ہٹ کر
کلام کرتی ہوئی کھڑکیاں ہی دیکھ آئیں
طواف کرتے ہوئے دل پہ ہاتھ رکھے ہوئے
ہم اپنے یار کا خالی مکاں ہی دیکھ آئیں

