ہے جو غلامِ محمد ﷺ وہ ہے غلامِ علی

ہے جو غلامِ محمد ﷺ وہ ہے غلامِ علی
حضور ﷺ نے ہے بتایا ہمیں مقامِ علی
ابھی حدیث کا مطلب نہیں کھلا تجھ پر
ابھی تو سیکھ فقیروں سے احترامِ علی
حرام ان پہ نہیں سوز و ساز جن کے دل
بھرے ہوئے ہوں ترنم سے لے کے نامِ علی
ہم اہلِ ہند غضب کے ہیں رند اور ہمیں
حسن حسین پلاتے ہیں بھر کے جامِ علی
بس اک اشارہ بہت ہے اگر سمجھ پاؤ
یہاں کلامِ محمد ﷺ وہاں کلامِ علی
ترے لیے تو میں زحمت نہ دونگا مولا کو
ترے لیے تو بہت ہے ابھی غلامِ علی
قلندروں کی طریقت میں لازمی ہے ندیم
کہ اہتمام سے مل کر منائیں شامِ علی