ہر ایک سانس پہ دھڑکا کہ آخری تو نہیں
مِلے دوبارہ اگر ایسی زندگی تو نہیں
اچانک آنا تمہارا اور اس قدر چاہت
کہیں یہ دوست مرِی آخری خوشی تو نہیں
تو کیوں نہ تجھ سے تِری گفتگو ہی کی جائے
تِرے علاوہ یہاں میرا کوئی بھی تو نہیں
ہم اہلِ عشق بڑے وضع دار ہوتے ہیں
ہماری آنکھ میں دیکھو کہیں نمی تو نہیں
بچھڑ رہا ہوں میں تجھ سے کہ مجھ کو جاننا ہے
مجھے کمی سی جو رہتی ہے وہ تری تو نہیں
سیاہ رنگ کے اندر ہے جھانکنا مجھ کو
یہ دیکھنے کے لیے اس میں روشنی تو نہیں
خدا سے پوچھ رہے ہیں جو آنے والے ہیں
کہیں زمین پہ یہ آخری صدی تو نہیں
مِلے دوبارہ اگر ایسی زندگی تو نہیں
اچانک آنا تمہارا اور اس قدر چاہت
کہیں یہ دوست مرِی آخری خوشی تو نہیں
تو کیوں نہ تجھ سے تِری گفتگو ہی کی جائے
تِرے علاوہ یہاں میرا کوئی بھی تو نہیں
ہم اہلِ عشق بڑے وضع دار ہوتے ہیں
ہماری آنکھ میں دیکھو کہیں نمی تو نہیں
بچھڑ رہا ہوں میں تجھ سے کہ مجھ کو جاننا ہے
مجھے کمی سی جو رہتی ہے وہ تری تو نہیں
سیاہ رنگ کے اندر ہے جھانکنا مجھ کو
یہ دیکھنے کے لیے اس میں روشنی تو نہیں
خدا سے پوچھ رہے ہیں جو آنے والے ہیں
کہیں زمین پہ یہ آخری صدی تو نہیں

