ہر دعا میری بے اثر تو نہیں

ہر دعا میری بے اثر تو نہیں
یہ ترا ہجر عمر بھر تو نہیں
تو کوئی اور کوزہ گر تو نہیں
میں کسی اور چاک پر تو نہیں
اے مری ہجر سے بھری ہوئی نیند
عرصہء خواب مختصر تو نہیں
خود سے بھی تیز چل رہا ہوں میں
یہ مرا آخری سفر تو نہیں
اس کی آنکھوں تک آ کے سوچتا ہوں
میں جدائی کی راہ پر تو نہیں
یہ جو بے خوف ہو رہا ہوں میں
میرے اندر بھی کوئی ڈر تو نہیں