حجتِ قال اور ہے عظمتِ حال اور ہے
تیرا ملال اور ہے میرا ملال اور ہے
سرخی عشق پر نہ بھول طرزِ جمال کو سمجھ
شام کا رنگ اور ہے رخ پہ گلال اور ہے
کشف و کرامتِ یقیں تو نے عطا کیا مگر
آنکھوں کی بارگاہ میں دل کا سوال اور ہے
حیرتِ عشق سے پرے ہیبتِ عشق کو بھی جان
رومی کا رقص اور ہے میری دھمال اور ہے
میری زمین گول ہے چاند فلک کا ڈھول ہے
مندری بجا رہی جسے جھولی میں تھال اور ہے
کتنے مچھیرے مر گئے جل کی پری نہیں ملی
مچھلی تڑپ کے بول اٹھی آپ کا جال اور ہے
سارے منافقین تھےجھڑتے ہوئے درخت پر
آئی خزاں تو کھل گیا پتوں کی چال اور ہے
جیسے کوئی فنا نہ ہو جیسے کوئی بقا نہیں
میرے فراق کی ندیم حدِ وصال اور ہے
تیرا ملال اور ہے میرا ملال اور ہے
سرخی عشق پر نہ بھول طرزِ جمال کو سمجھ
شام کا رنگ اور ہے رخ پہ گلال اور ہے
کشف و کرامتِ یقیں تو نے عطا کیا مگر
آنکھوں کی بارگاہ میں دل کا سوال اور ہے
حیرتِ عشق سے پرے ہیبتِ عشق کو بھی جان
رومی کا رقص اور ہے میری دھمال اور ہے
میری زمین گول ہے چاند فلک کا ڈھول ہے
مندری بجا رہی جسے جھولی میں تھال اور ہے
کتنے مچھیرے مر گئے جل کی پری نہیں ملی
مچھلی تڑپ کے بول اٹھی آپ کا جال اور ہے
سارے منافقین تھےجھڑتے ہوئے درخت پر
آئی خزاں تو کھل گیا پتوں کی چال اور ہے
جیسے کوئی فنا نہ ہو جیسے کوئی بقا نہیں
میرے فراق کی ندیم حدِ وصال اور ہے

