ہم پاپی سرکار کے تم تعظیم کرو
اور نہیں کچھ چاہئے بس تسلیم کرو
آنکھوں بھوکے لوگ ہیں چوکھٹ پر آئے
لنگر اپنےحسن کا اب تقسیم کرو
دیکھ الف کے حسن کو مست پکار اٹھے
تاب کہاں مخلوق میں، گھونگھٹ میم کرو
پہلے اس کی خامشی اوڑھو ہونٹوں پر
ورنہ ہم سے دور ہی، رام رحیم کرو
اپنے اپنے دھیان میں آپ ہی ڈالو جان
اپنے اپنے وہم کو، خود تجسیم کرو
جنت اس کا قرب ہے، دوزخ ہجر کی آگ
باقی کا سب فلسفہ جو تفہیم کرو
اندھے پر اب کھول دو، منظر کے سب بھید
گونگے کو کچھ لفظ دو اور کلیم کرو
ہجر نبھایا یار کا، وصل کی خواہش میں
قلب سلیم تو ہوگیا، عشق سلیم کرو
صوت کے اندر صوت تھی، صورت والی صوت
ن پہ چھاؤں ہے ق کی، عشق ندیم کرو
اور نہیں کچھ چاہئے بس تسلیم کرو
آنکھوں بھوکے لوگ ہیں چوکھٹ پر آئے
لنگر اپنےحسن کا اب تقسیم کرو
دیکھ الف کے حسن کو مست پکار اٹھے
تاب کہاں مخلوق میں، گھونگھٹ میم کرو
پہلے اس کی خامشی اوڑھو ہونٹوں پر
ورنہ ہم سے دور ہی، رام رحیم کرو
اپنے اپنے دھیان میں آپ ہی ڈالو جان
اپنے اپنے وہم کو، خود تجسیم کرو
جنت اس کا قرب ہے، دوزخ ہجر کی آگ
باقی کا سب فلسفہ جو تفہیم کرو
اندھے پر اب کھول دو، منظر کے سب بھید
گونگے کو کچھ لفظ دو اور کلیم کرو
ہجر نبھایا یار کا، وصل کی خواہش میں
قلب سلیم تو ہوگیا، عشق سلیم کرو
صوت کے اندر صوت تھی، صورت والی صوت
ن پہ چھاؤں ہے ق کی، عشق ندیم کرو

