حضورِ عشق ہر اک مرتبہ حسین کا ہے
خدا حسین کا شیرِ خدا حسین کا ہے
حسینُ منی سے پڑھ یا من الحسین سے پڑھ
کہ اب زمین کا ہر قاعدہ حسین کا ہے
یہ شیعہ سنی وغیرہ کا کیسا جھگڑا ہے
بس اتنا جان کہ بخشا ہوا حسین کا ہے
سبیل والو ہمیں اشک ہی بہت ہیں آج
تمہیں سمجھ نہیں یہ راستہ حسین کا ہے
اسی لیے تو علیہ السلام کہنا پڑا
کہ اتنا ضبط فقط حوصلہ حسین کا ہے
خدا سے عالمِ ارواح میں کیا تھا سوال
جواب آیا کہ یہ فیصلہ حسین کا ہے
حسن حسین پہ وارے ہیں شہر یار و وراق
کہ میرے پاس ہے جو کچھ مرا حسین کا ہے
خدا حسین کا شیرِ خدا حسین کا ہے
حسینُ منی سے پڑھ یا من الحسین سے پڑھ
کہ اب زمین کا ہر قاعدہ حسین کا ہے
یہ شیعہ سنی وغیرہ کا کیسا جھگڑا ہے
بس اتنا جان کہ بخشا ہوا حسین کا ہے
سبیل والو ہمیں اشک ہی بہت ہیں آج
تمہیں سمجھ نہیں یہ راستہ حسین کا ہے
اسی لیے تو علیہ السلام کہنا پڑا
کہ اتنا ضبط فقط حوصلہ حسین کا ہے
خدا سے عالمِ ارواح میں کیا تھا سوال
جواب آیا کہ یہ فیصلہ حسین کا ہے
حسن حسین پہ وارے ہیں شہر یار و وراق
کہ میرے پاس ہے جو کچھ مرا حسین کا ہے

