اک گلی اک گلی کے ساتھ بنی
اس طرح اپنی کائنات بنی
ایک آواز مجھ تک آئی تھی
جس پہ لب رکھ دیے تو بات بنی
تیرے ماتھے نے دن کیا روشن
تیری آنکھیں بنیں تو رات بنی
وہم پر رکھ دیے گئے چہرے
آئنوں میں ہماری ذات بنی
ہجر کا تجربہ بھی کرنا تھا
اس لیے ساری کائنات بنی
دھیان میں زلفِ یارِ اول تھی
میں غزل کہہ رہا تھا نعت بنی
اس طرح اپنی کائنات بنی
ایک آواز مجھ تک آئی تھی
جس پہ لب رکھ دیے تو بات بنی
تیرے ماتھے نے دن کیا روشن
تیری آنکھیں بنیں تو رات بنی
وہم پر رکھ دیے گئے چہرے
آئنوں میں ہماری ذات بنی
ہجر کا تجربہ بھی کرنا تھا
اس لیے ساری کائنات بنی
دھیان میں زلفِ یارِ اول تھی
میں غزل کہہ رہا تھا نعت بنی

