جلال میں بھی کوئی ڈھونڈ لے جمال تو پھر

جلال میں بھی کوئی ڈھونڈ لے جمال تو پھر
وہ بے مثال اگر اپنی ہو مثال تو پھر
سمجھ میں آئیں گے تجھ کو بھی ڈھلتی عمر کے دکھ
بدل گئے کبھی تیرے بھی خدوخال تو پھر
تو ہم کو روک تو سکتا ہے ناچنے سے مگر
ہمارے پیڑ بھی کرنے لگیں دھمال تو پھر
میں ڈر رہا ہوں شکاری طبیعتوں والے
بچھا رکھا ہو اگر مچھلیوں نے جال تو پھر
میں اِس لئے بھی ترے قُرب سے گریزاں ہوں
دمِ وصال ترا آگیا خیال تو پھر
مرے لباس پہ تنقید کرنے والے سن
اُتار دوں میں اگر آج اپنی کھال تو پھر
وہ جس کو چلنا سکھایا ہے تم نے جھک جھک کے
وُہی کرے تمہیں اِک روز پائمال تو پھر