جلوۂ نور کے لیے جسم نقاب ہوگیا
تو تو رہا حجاب میں ، میں بے حجاب ہوگیا
کرب و بلا کے بعد اب کشتیٔ نوح چاہئے
پیاس کی بارگاہ میں پانی عذاب ہوگیا
چشم فلک نما کھلی خواب گرا کے سو گئی
خواب کے ٹوٹنے کا غم باعثِ خواب ہوگیا
صفحوں پہ ڈھونڈیے مجھے سطروں میں پائیے مجھے
لکھتے ہوئے کتابِ عشق میں بھی کتاب ہو گیا
عمر کے کاروبار میں سانسوں پہ بات رک گئی
بات ابھی چلی نہ تھی اور حساب ہوگیا
تو تو رہا حجاب میں ، میں بے حجاب ہوگیا
کرب و بلا کے بعد اب کشتیٔ نوح چاہئے
پیاس کی بارگاہ میں پانی عذاب ہوگیا
چشم فلک نما کھلی خواب گرا کے سو گئی
خواب کے ٹوٹنے کا غم باعثِ خواب ہوگیا
صفحوں پہ ڈھونڈیے مجھے سطروں میں پائیے مجھے
لکھتے ہوئے کتابِ عشق میں بھی کتاب ہو گیا
عمر کے کاروبار میں سانسوں پہ بات رک گئی
بات ابھی چلی نہ تھی اور حساب ہوگیا

