حضور ﷺ نعت کا مطلع سجا دیا جائے
ہمیں چراغ بناتا ہے یا علی کہنا
ہے جو غلامِ محمد ﷺ وہ ہے غلامِ علی
حضورِ عشق ہر اک مرتبہ حسین کا ہے
صحرا میں اک پھول ہے جس میں ہر ہر رنگ
روح حاضر ہے مرے یار کوئی مستی ہو
دھرتی کے بادشاہ کو صرف نگر دکھائی دے
حسن ہمہ تن گوش ہے عشق سلام کرے
سخن گویم بہ طرزِ اُو ھو الحق ھو،ھوالحق ھو
ہم پاپی سرکار کے تم تعظیم کرو
وہ بڑی بن کے زمانے سے لڑی جاتی ہے
جلال میں بھی کوئی ڈھونڈ لے جمال تو پھر
نیند کی چاندنی خواب کا رتجگا ایک خیمے میں محفل سجائی گئی
آگ بجھا رہا ہوں میں
روح کو وجد میں لا رقص دکھا
اک کارواں بنا تو بنے کارواں کے لوگ
بجھ چکی آگ دل جلا ہی نہیں
وہ اندھیرا تھا ، اندھیرے میں ، دیا میں بھی تھا
بنا کے راکھ ہوا میں اڑا دیا پتھر
زمین کی خود نمائیوں میں الجھ چکا ہوں
حجتِ قال اور ہے عظمتِ حال اور ہے
بڑھ کر نہ لڑا کوئی بتائی ہوئی حد سے
میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں
راہ میں چھوڑ کر نہیں جاتا
اس کی آنکھوں کے دریچوں میں رہا کرتے تھے
دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے
ہمارے حافظے بے کار ہو گئے صاحب
مل رہے ہو بڑی عقیدت سے
دیکھو اس کا ہجر نبھانا پڑتا ہے
تمام عمر جلے اور روشنی نہیں کی
دیکھ چکے جب دنیا ساری مست ہوئے
ہم نے پورا زور لگا کر رقص کیا
شور اگر ہوتا تو کہتا شیشہ ٹوٹنے والا ہے
دکھا رہا ہوں تماشہ سمجھ میں آجائے
صدا لپیٹ کے دل جائیں گے وگرنہ نہیں
عبد ہونے کا تجربہ کیا ہے
بس یہی کچھ ہے مرتبہ مرے پاس
شدید گریہ کا مطلب بتا رہا تھا ہمیں
چشمِ نمناک نے سمجھنا ہے
نظر اٹھا کے مرے سامنے کھڑے ہو تم
کہنے لگے درخت سہارا کوئی تو ہو
رات خاموش ہوئی اور پکاری گئی صبح
عجیب منطق سے دل ہمارے بھرے ہوئے ہیں
مجھ پہ راز کھل چکا مرے دوست
گلاب تھے بکھر گئے
مشورہ مان دوستا خاموش
بچھڑ رہے تھے کوئی حوصلہ ضروری تھا
کسی نگاہ کی تاثیر ہو کے کھلتے ہیں
قیس کا شجرہ نہ کوئی ہم کو شہرت چاہئے
گزر چکے ہیں جو ان کے نشاں ہی دیکھ آئیں
قیس و لیلیٰ کا طرف دار اگر مر جائے
وہ ہاتھ ہاتھوں میں تھام کر مسکرا رہا ہوں
موازنہ اگر اپنا کتاب سے کرے گی
یہ نہر اور کنارے تمہیں سمجھتے ہیں
ہر دعا میری بے اثر تو نہیں
مشورہ جو بھی ملا ہم نے وہی مان لیا
ہے مرے واسطے دعا مرا عشق
میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں
سہولت ہو اذیت ہو تمہارے ساتھ رہنا ہے
فلک کے چاند کو غرقاب دیکھنے کے لیے
صحرا میں جا رہے ہو تم مجنوں اگر دکھائی دے
اب ہیں وہ نامرادیاں عشق کی تاب بھی نہیں
چلا گیا ہے وہ لیکن نشان اب بھی ہیں
اک گلی اک گلی کے ساتھ بنی
بہت شدت سے جو قائم ہوا تھا
جلوۂ نور کے لیے جسم نقاب ہوگیا
ایک سخن کو بھول کر ایک کلام تھا ضرور
صفحے پلٹ رہا ہوں میں شعر سنا رہا ہوں میں
جیسا ہوں ، جس حال میں ہوں ، اچھا ہوں میں
خشک پتوں کی صورت بکھر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا
یہ لوگ اس لیے مجھ کو گلے لگا رہے ہیں
چھوٹے ہونے لگے بڑے میرے
شامِ غمِ حسین میں نامِ علی لیا گیا
شامِ غم کے سب سہارے ٹوٹ کر
خدا ملاتے ہیں ذوقِ خدائی دیتے ہیں
سخن تماشہ بناشاعری خراب ہوئی
اُردُو
हिंदी
ENG
اُردُو
ہوم
غزلیں
نظمیں
وڈیو
تصاویر
رابطہ
ہوم
غزلیں
اُردُو
غزلیں
Share: