کہنے لگے درخت سہارا کوئی تو ہو
وہ دھوپ پڑ رہی ہے کہ سایا کوئی تو ہو
کچھ اس لیے بھی تم سے محبت ہے مجھ کو دوست
میرا کوئی نہیں تمہارا کوئی تو ہو
سوچا تھا کٹ ہی جائے گی تنہا تمام عمر
لیکن تمام عمر خدارا کوئی تو ہو
کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی نہیں
کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی تو ہو
اک عمر تجھ سے مل نہ سکے اور ایک عمر
یہ سوچتے کٹی کہ بہانا کوئی تو ہو
تنہائی اس قدر ہے کہ عادت سی ہوگئی
ہر وقت کہتے رہنا ہمارا کوئی تو ہو
وہ دھوپ پڑ رہی ہے کہ سایا کوئی تو ہو
کچھ اس لیے بھی تم سے محبت ہے مجھ کو دوست
میرا کوئی نہیں تمہارا کوئی تو ہو
سوچا تھا کٹ ہی جائے گی تنہا تمام عمر
لیکن تمام عمر خدارا کوئی تو ہو
کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی نہیں
کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی تو ہو
اک عمر تجھ سے مل نہ سکے اور ایک عمر
یہ سوچتے کٹی کہ بہانا کوئی تو ہو
تنہائی اس قدر ہے کہ عادت سی ہوگئی
ہر وقت کہتے رہنا ہمارا کوئی تو ہو

