خیال آیا ہے اپنا سنورنا چاہتے ہیں
اک انتظار جو کرتے تھے ، کرنا چاہتے ہیں
اسے کہو کہ وہ اپنے گھڑے تو بھر جائے
اسے کہو مرے دریا اترنا چاہتے ہیں
ادائے حسن ذرا سا ترس ضروری ہے
کہیں وہ مر ہی نہ جائیں جو مرنا چاہتے ہیں
یہ لوگ وہ ہیں جنہیں نوکری قبول نہ تھی
اب اس گلی پہ کوئی کام کرنا چاہتے ہیں
عجیب طور سے خوشبو کا کاروبار چلا
مرے گلاب بھی اب تو بکھرنا چاہتے ہیں
اک انتظار جو کرتے تھے ، کرنا چاہتے ہیں
اسے کہو کہ وہ اپنے گھڑے تو بھر جائے
اسے کہو مرے دریا اترنا چاہتے ہیں
ادائے حسن ذرا سا ترس ضروری ہے
کہیں وہ مر ہی نہ جائیں جو مرنا چاہتے ہیں
یہ لوگ وہ ہیں جنہیں نوکری قبول نہ تھی
اب اس گلی پہ کوئی کام کرنا چاہتے ہیں
عجیب طور سے خوشبو کا کاروبار چلا
مرے گلاب بھی اب تو بکھرنا چاہتے ہیں

