خشک پتوں کی صورت بکھر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا

خشک پتوں کی صورت بکھر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا
چھوڑ کر تیرا رستہ اگر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا
راستے میں کوئی جن بھی آسکتا ہے اس کہانی میں بھی
میری شہزادی پھر میں کدھر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا
میں گھڑی دو گھڑی کا ہی مہمان ہوں بار مت جاننا
ساتھ تیرے فقط میل بھر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا
وہ ہی تنہائیاں وہ ہی رسوائیاں ہجر آرائیاں
مجھ کو معلوم ہے جب بھی گھر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا
غم ندیمؔ اپنے میں ساتھ لے جاؤں گا رہ گئے قہقہے
دوستوں کے لئے چھوڑ کر جاؤں گا میں تو مر جاؤں گا