کسی نگاہ کی تاثیر ہو کے کھلتے ہیں

کسی نگاہ کی تاثیر ہو کے کھلتے ہیں
خموش لوگ ہیں تحریر ہو کے کھلتے ہیں
ملے بغیر کبھی رد ہمیں نہیں کرنا
کئی حجاب بغلگیر ہو کے کھلتے ہیں
تمہیں یہ کس نے کہا ہے کہ ہم بندھے ہوئے ہیں
ہمارے پاؤں تو زنجیر ہو کے کھلتے ہیں
ہمارے بھید بتاتی ہیں ہم کو دیواریں
کہ ہم تو خود پہ بھی تصویر ہو کے کھلتے ہیں