مشورہ جو بھی ملا ہم نے وہی مان لیا

مشورہ جو بھی ملا ہم نے وہی مان لیا
عشق میں اچھے برے سب ہی کا احسان لیا
ہاتھ اٹھایا تھا ستاروں کو پکڑنے کے لیے
چرخ نے چاند کو خنجر کی طرح تان لیا
تم فقط خواہشِ دل ہی نہیں اب ضد بھی ہو
دل میں رہتے ہو تو پھر دل میں تمہیں ٹھان لیا
قرب نے کھول دیے بھید سبھی ہونے کے
اور مری خاک نے تجھ خاک کو پہچان لیا
ہم فقیروں کا مقامات پہ جھگڑا کیسا
جو بڑا ہو کے ملا اس کو بڑا مان لیا