مٹی کو مہکا دیں سائیں

مٹی کو مہکا دیں سائیں
اب تو عشق سکھا دیں سائیں
میری صبح چمک اٹھے گی
تھوڑا سا مسکا دیں سائیں
چاہے جتنے دروازے ہوں
رنگ محل بنوا دیں سائیں
آسمان کی دیواروں میں
اک کھڑکی لگوا دیں سائیں
تھوڑا تھوڑا غم کا نم ہے
پھر بھی آگ لگا دیں سائیں
چودہ طبق روشن ہو جائیں
سات چراغ جلا دیں سائیں
پانی نے رستہ مانگا ہے
اب رونا سکھلا دیں سائیں
برتن بر کا تن بھرنا ہے
اب بادل برسا دیں سائیں
چکی گندم پیس چکی ہے
آٹا تو گندھوا دیں سائیں