موازنہ اگر اپنا کتاب سے کرے گی

موازنہ اگر اپنا کتاب سے کرے گی
ہماری حور محبت حجاب سے کرے گی
ہمیں کہے گی کہ خوابوں میں چھوڑ دو رہنا
پھر اپنی بات کا آغاز خواب سے کرے گی
کسی گھڑے کسی نلکے سے بے غرض ہوگی
وہ اپنی پیاس کی باتیں سراب سے کرے گی
جدید دور کی لڑکی ہے گر محبت بھی
کبھی کرے گی تو پورے حساب سے کرے گی
وہ پہلی بات کرے گی تو پھیلے گی خوشبو
وہ پہلا عشق بھی شاید گلاب سے کرے گی