مل رہے ہو بڑی عقیدت سے

مل رہے ہو بڑی عقیدت سے
خوف آتا ہے اتنی عزت سے
اس نے حیران ہونا سیکھ لیا
میں نے دیکھا ہی اتنی حیرت سے
اس نے مجھ کو بھلا دیا اک دن
اور بھلایا بھی کس سہولت سے
پردہ داروں نے خود کشی کر لی
صحن جھانکا گیا کسی چھت سے
زہر ایجاد ہو گیا اک دن
لوگ مرتے تھے پہلے غیرت سے
اور پھر جنگ چھڑ گئی میری
عشق سے پیار سے محبت سے
ہم زیادہ بگاڑ دیتے ہیں
بچ کے رہنا ہماری صحبت سے
اس کے دل میں اترنے لگتا ہوں
جو مجھے دیکھتا ہے نفرت سے
لوگ کردار بننا چاہتے ہیں
جیسے ممکن ہے سب ریاضت سے
اپنی گردن جھکا کے بات کرو
تم نکالے گئے ہو جنت سے