محبت لازمی ہے مانتا ہوں
مری ہم رقص میں اب تھک چکا ہوں
تمہارا ہجر کاندھے پر رکھا ہے
مکاں سے لامکاں تک جا رہا ہوں
بڑھا دیتا ہوں درجے روشنی کے
میں جگنو کو ستارا مانتا ہوں
مری پہلی کمائی ہے محبت
محبت جو تمہیں میں دے چُکا ہوں
کوئی تو گیت اٹکا ہے گلے میں
گویا بھی نہیں پر گا رہا ہوں
طلسمِ شب تجھے اک صبح دے کر
ترا گھونگھٹ اٹھانا چاہتا ہوں
مرے چاروں طرف اک شور سا ہے
مگر پھر بھی یہاں تنہا کھڑا ہوں
محبت ہجر نفرت مل چکی ہے
میں تقریباً مکمل ہو چکا ہوں
مری ہم رقص میں اب تھک چکا ہوں
تمہارا ہجر کاندھے پر رکھا ہے
مکاں سے لامکاں تک جا رہا ہوں
بڑھا دیتا ہوں درجے روشنی کے
میں جگنو کو ستارا مانتا ہوں
مری پہلی کمائی ہے محبت
محبت جو تمہیں میں دے چُکا ہوں
کوئی تو گیت اٹکا ہے گلے میں
گویا بھی نہیں پر گا رہا ہوں
طلسمِ شب تجھے اک صبح دے کر
ترا گھونگھٹ اٹھانا چاہتا ہوں
مرے چاروں طرف اک شور سا ہے
مگر پھر بھی یہاں تنہا کھڑا ہوں
محبت ہجر نفرت مل چکی ہے
میں تقریباً مکمل ہو چکا ہوں

