نظر اٹھا کے مرے سامنے کھڑے ہو تم

نظر اٹھا کے مرے سامنے کھڑے ہو تم
مجھے خبر ہے کہ پہلے سے اب بڑے ہو تم
یہ ٹہنیاں نہیں دیکھو تو میری بانہیں ہیں
اور ان سے پھول نہیں دوستو جھڑے ہو تم
سنا ہے اس نے کہیں اور دل لگا لیا ہے
وہ جس کے واسطے آپس میں لڑ پڑے ہو تم
مہک بتاتی ہے اس کی گلی میں رہتے ہو
تو پھر گلے سے لگو ، دور کیوں کھڑے ہو تم
بندھے ہوئے مرے ہاتھوں پہ ایک بوسہ دو
کہ اس انگوٹھی میں پتھر نہیں جڑے ہو تم