نیند کی چاندنی خواب کا رتجگا ایک خیمے میں محفل سجائی گئی

نیند کی چاندنی خواب کا رتجگا ایک خیمے میں محفل سجائی گئی
شمس تبریز و رومی بھی موجود تھے میرے خواجہ کی کافی سنائی گئی
بانس اور دھات سے ایک آواز نکلی تو خسرو کے سینے میں سُر بھر گئے
ہند کے ساز پر ترک تاریں جڑیں خواجگاں کے لیے دھن بنائی گئی
سلسلہ ایک بیدل سے چلتا ہوا ریختہ بن کے غالب غزل ہوگیا
نظم لکھی گئی تو نظام آگئے اور دلی میں ہولی منائی گئی
یا علی کے ترانے میں چھیڑا گیا سوہنی راگ کوہجر کی آگ کو
منقبت میں غزل سُر میں ہونے لگی تیری صورت ہمیں جب دکھائی گئی
بیت کھولے گئے سینہ سنگ پر اور نبھانے کا اسلوب بخشا گیا
ایک لڑکی کھڑی میں کھڑی رہ گئی اس کے اندر کی جب بے وفائی گئی
ہند اور سندھ کے قافیے مل گئے بولیاں مصرع مصرع اترنے لگیں
حکمتیں پھر سے الہام ہونے لگیں آگ بارش میں جوں ہی جلائی گئی
یا محمد علی سروری قادری سرِ اسرارِ فقر و فنا مرحبا
باھو آئینہ حق نما ہیں مرے رمز ھو کی مجھے یوں بتائی گئی