رات خاموش ہوئی اور پکاری گئی صبح
سانس لیتی ہوئی کھڑکی میں سنواری گئی صبح
اے سخن ساز بدن تیرے لیے شام بنی
اے رضا مند ہنسی تجھ پہ اتاری گئی صبح
اے سیہ زلف یہ جنگل کا اندھیرا تری خو
اے چمکدار جبیں تجھ سے نکھاری گئی صبح
ایسا لگتا ہے کہ فٹ پاتھ پہ کھیلی گئی تاش
ایسا لگتا ہے جوے میں کہیں ہاری گئی صبح
خوف اتنا تھا کہ آنکھوں میں کہیں نیند نہ تھی
خواب ایسا تھا کہ سو سو کے گزاری گئی صبح
رات مشرق کی طرف ڈھیروں ستارے ٹوٹے
رات سننے میں یہ آیا تھا کہ ماری گئی صبح
سانس لیتی ہوئی کھڑکی میں سنواری گئی صبح
اے سخن ساز بدن تیرے لیے شام بنی
اے رضا مند ہنسی تجھ پہ اتاری گئی صبح
اے سیہ زلف یہ جنگل کا اندھیرا تری خو
اے چمکدار جبیں تجھ سے نکھاری گئی صبح
ایسا لگتا ہے کہ فٹ پاتھ پہ کھیلی گئی تاش
ایسا لگتا ہے جوے میں کہیں ہاری گئی صبح
خوف اتنا تھا کہ آنکھوں میں کہیں نیند نہ تھی
خواب ایسا تھا کہ سو سو کے گزاری گئی صبح
رات مشرق کی طرف ڈھیروں ستارے ٹوٹے
رات سننے میں یہ آیا تھا کہ ماری گئی صبح

