روح کو وجد میں لا رقص دکھا

روح کو وجد میں لا رقص دکھا
وحشتِ عشق نبھا رقص دکھا
آسماں روند کبھی پیروں میں
اور زمیں سر پہ اٹھا رقص دکھا
بھول جا کون کہاں کیسا ہے
دوستا موج میں آ رقص دکھا
آج شادی ہے مرے صاحب کی
حیدری رنگ جما رقص دکھا
آ ! ذرا دیر مجھے یار سمجھ
اور پھر یار منا رقص دکھا
یہ زمیں گھومنے والی نہیں تھی
ایک دن اس نے کہا رقص دکھا
ہجر کو بھوگ نہیں بھاگ سمجھ
اور پھر جشن منا رقص دکھا