صحرا میں اک پھول ہے جس میں ہر ہر رنگ

صحرا میں اک پھول ہے جس میں ہر ہر رنگ
ہم بھی اس کے خار ہیں ہم بھی اس کے سنگ
چاند کا اک دربار ہے تارے درباری
تین سو تیرہ مست ہیں یعنی سات ملنگ
اپنی اپنی مستیاں اپنا اپنا دھیان
دنیا ہم سے تنگ ہے ہم دنیا سے تنگ
جو بھی اس کا ہو رہے اس میں کرے قیام
کعبہ عربستان میں اور میں دیکھوں جھنگ
تیز ہوا ہے آہوں کی اشکوں کی بارش
ڈور ہے اس کے ہاتھ میں اونچی اڑی پتنگ
دھیان اور گیان اک پیڑ ہیں دکھ سکھ پھل اور پھول
خود نے خود کو سینچنا خود کی خود سے جنگ
ذات صفات کے بوجھ سے ہو جائیں آزاد
ہولی کھیلیں پریم کی آؤ منائیں رنگ
تو اور میں کے درمیاں عشق کی خاموشی
سادھو نے چپ سادھ لی ایک فقیر کے سنگ