صحرا میں جا رہے ہو تم مجنوں اگر دکھائی دے

صحرا میں جا رہے ہو تم مجنوں اگر دکھائی دے
کہنا کرے دھمال اُدھر دھول اِدھر دکھائی دے
میرے سوا کوئی نہیں میں بھی اگر یہاں نہیں
پھر یہ حجاب کس لیے نیچے اتر دکھائی دے
کھینچ لکیر چاند پر ماہ کو نصف کر کے مل
آدھا خدا سجھائی دے آدھا بشر دکھائی دے
سوچ ہماری عقل سے اس بے مثال کا جمال
دیکھ ہماری آنکھ سے تجھ کو اگر دکھائی دے
اپنے خدا سے آج میں نشے میں مل کے رو دیا
روتے ہوئے اسے کہا پردہ نہ کر دکھائی دے
یا تو کروڑ آنکھ ہو یا مری ایسی آنکھ ہو
تو ہی فقط دکھائی دے ، مجھ کو جدھر دکھائی دے