موت و حیات کا اصول ہم کو سکھا دیا گیا
شامِ غمِ حسین میں نامِ علی لیا گیا
اصغرِ شیر خوار کی یاد اچانک آ گئی
پیاس بہت شدید تھی پانی نہیں پیا گیا
خیمے جلا دیے گئے پھر یہ فضول بحث ہے
ایسے نہیں کیا گیا ویسے نہیں کیا گیا
حکمِ نبی کو چھوڑ کر سارے اصول توڑ کر
بچے سے اتنا خوف تھا پانی نہیں دیا گیا
غم نے شدید کر دیا چاک مزید کر دیا
سینہ ہمارا پھٹ گیا زخم نہیں سیا گیا
شامِ غمِ حسین میں نامِ علی لیا گیا
اصغرِ شیر خوار کی یاد اچانک آ گئی
پیاس بہت شدید تھی پانی نہیں پیا گیا
خیمے جلا دیے گئے پھر یہ فضول بحث ہے
ایسے نہیں کیا گیا ویسے نہیں کیا گیا
حکمِ نبی کو چھوڑ کر سارے اصول توڑ کر
بچے سے اتنا خوف تھا پانی نہیں دیا گیا
غم نے شدید کر دیا چاک مزید کر دیا
سینہ ہمارا پھٹ گیا زخم نہیں سیا گیا

