شامِ غم کے سب سہارے ٹوٹ کر

شامِ غم کے سبـ سہارے ٹوٹـ کر
ختم ہو جائیں نہ تارے ٹوٹـ کر

خواہشیں کچھ مر گئی ہیں نیند میں
خوابـ کچھ بکھرے ہمارے ٹوٹـ کر

بارشوں نے کام دریا کا کیا
کیا کریں گے ابـ کنارے ٹوٹـ کر

اکـ تمہارا عشق زندہ رہ گیا
مر گئے ہم لوگـ سارے ٹوٹـ کر

مجھ کو پھر اذنِ مسافتـ دے گئے
آسماں پر کچھ ستارے ٹوٹـ کر

ہم سفالِ بے مرکبـ ہیں ندیمؔ
گر رہے ہیں بتـ ہمارے ٹوٹـ کر