شور اگر ہوتا تو کہتا شیشہ ٹوٹنے والا ہے
یہ تو خاموشی ہے کوئی پتا ٹوٹنے والا ہے
میں وہ شخص ہوں جس نےکسی کے بہتے آنسو روکے ہیں
مجھے بتاؤ کہاں کہاں سے دریا ٹوٹنے والا ہے
اک تازہ تصویر پہ دیکھی میں نے گرد زمانوں کی
اک آئینہ خطرے میں اور چہرہ ٹوٹنے والا ہے
فرض قضا تو ہو سکتا ہے عشق قضا نہیں ہو سکتا
تجھے نماز کی فکر پڑی یہاں سجدہ ٹوٹنے والا ہے
اک بارش سے دوسری بارش تک کے گھر ہیں بستی میں
دھرتی بھی پیاسی ہے جانے کیا کیا ٹوٹنے والا ہے
تھوڑی دیر میں پُل سے لٹکنے والے چیخنے والے ہیں
سانپوں سے یہ خبر ملی ہے رسہ ٹوٹنے والا ہے
تو یاقوت کو نعمت کہہ کر مجھے عطا تو کرتا ہے
مولا خیر ترے پتھر کی بندہ ٹوٹنے والا ہے
دکھ تو یہ ہے اس پر خود درویش بھی خوش خوش بیٹھا ہے
مسجد کی تعمیر کی خاطر حجرہ ٹوٹنے والا ہے
تجھے فقیر نے خود سے دور کیا تو اس کا مطلب ہے
گوری تیرا مان نہیں بس نخرہ ٹوٹنے والا ہے
یہ تو خاموشی ہے کوئی پتا ٹوٹنے والا ہے
میں وہ شخص ہوں جس نےکسی کے بہتے آنسو روکے ہیں
مجھے بتاؤ کہاں کہاں سے دریا ٹوٹنے والا ہے
اک تازہ تصویر پہ دیکھی میں نے گرد زمانوں کی
اک آئینہ خطرے میں اور چہرہ ٹوٹنے والا ہے
فرض قضا تو ہو سکتا ہے عشق قضا نہیں ہو سکتا
تجھے نماز کی فکر پڑی یہاں سجدہ ٹوٹنے والا ہے
اک بارش سے دوسری بارش تک کے گھر ہیں بستی میں
دھرتی بھی پیاسی ہے جانے کیا کیا ٹوٹنے والا ہے
تھوڑی دیر میں پُل سے لٹکنے والے چیخنے والے ہیں
سانپوں سے یہ خبر ملی ہے رسہ ٹوٹنے والا ہے
تو یاقوت کو نعمت کہہ کر مجھے عطا تو کرتا ہے
مولا خیر ترے پتھر کی بندہ ٹوٹنے والا ہے
دکھ تو یہ ہے اس پر خود درویش بھی خوش خوش بیٹھا ہے
مسجد کی تعمیر کی خاطر حجرہ ٹوٹنے والا ہے
تجھے فقیر نے خود سے دور کیا تو اس کا مطلب ہے
گوری تیرا مان نہیں بس نخرہ ٹوٹنے والا ہے

