سخن تماشہ بناشاعری خراب ہوئی

سخن تماشہ بنا شاعری خراب ہوئی
تماشبینوں میں آ کر پری خراب ہوئی
زمانہ اپنے خرابے سمیت اس سے ملا
پھر اس کے بعد وہ لڑکی بڑی خراب ہوئی
ہمیں سکھاؤ نہیں بزم کے ادب آداب
میاں ہماری یہاں زندگی خراب ہوئی
شکوہِ کارِ سخن ائے بلند گویائی
تجھے سنوار کے دنیا مری خراب ہوئی
پھر ایک روز اندھیرے نے ساتھ چھوڑ دیا
چراغ ٹوٹ گیا روشنی خراب ہوئی
تنے کو روگ لگا پیڑ نے سزا پائی
پھر اس درخت کی پتوں بھری خراب ہوئی
خدا کا شکر مجھے بے حساب وقت ملا
خدا کا شکر اچانک گھڑی خراب ہوئی