سخن تماشہ بنا شاعری خراب ہوئی
تماشبینوں میں آ کر پری خراب ہوئی
ہمیں سکھاؤ نہیں بزم کے ادب آداب
میاں ہماری یہاں زندگی خراب ہوئی
خدا کا شکر مجھے بے حساب وقت ملا
خدا کا شکر اچانک گھڑی خراب ہوئی
نہ پھول آئے پھلوں تک نہ پھل اتارے گئے
جب اس انار کی پتوں بھری خراب ہوئی
زمانہ اپنے خرابے سمیت اس سے ملا
پھر اس کے بعد وہ لڑکی بڑی خراب ہوئی
پھر ایک روز اندھیرے نے ساتھ چھوڑ دیا
چراغ ٹوٹ گیا روشنی خراب ہوئی
تماشبینوں میں آ کر پری خراب ہوئی
ہمیں سکھاؤ نہیں بزم کے ادب آداب
میاں ہماری یہاں زندگی خراب ہوئی
خدا کا شکر مجھے بے حساب وقت ملا
خدا کا شکر اچانک گھڑی خراب ہوئی
نہ پھول آئے پھلوں تک نہ پھل اتارے گئے
جب اس انار کی پتوں بھری خراب ہوئی
زمانہ اپنے خرابے سمیت اس سے ملا
پھر اس کے بعد وہ لڑکی بڑی خراب ہوئی
پھر ایک روز اندھیرے نے ساتھ چھوڑ دیا
چراغ ٹوٹ گیا روشنی خراب ہوئی

