تُو بھی آ جائے یہاں اور مرا بچپن بھی

تُو بھی آ جائے یہاں اور مرا بچپن بھی
ختم ہو جائے کہانی بھی ہر اک الجھن بھی
بھیک مل جاتی ہے اور پانی بھی پی لیتا ہوں
ہاتھ کشکول بھی ہیں ، اور مرے برتن بھی
کیوں تِرے غم میں کسی اور کو شامل کر لوں
کس لیے روئے مرے ساتھ مرا آنگن بھی
بعد مدت کے مرے خواب میں بابا آئے
ڈانٹ بھی کھائی مگر خوب کیے درشن بھی
ایک ویران ریاست کی طرح ہوں میں ندیمؔ
فتح کر کے مجھے پچھتائے مرے دشمن بھی