وہ بڑی بن کے زمانے سے لڑی جاتی ہے
اس کو اندازہ نہیں شاخ جھڑی جاتی ہے
اب یہ بندھن مری سانسوں کے لیے بندش ہے
اب انگوٹھی مری انگلی میں گڑی جاتی ہے
ایک جلوہ کہ جسے دل میں چھپایا ہوا ہے
اور دنیا مری آنکھوں سے سڑی جاتی ہے
آنکھ جھپکوں تو مرا وقت گزر جاتا ہے
ہاتھ جھٹکوں تو کلائی سے گھڑی جاتی ہے
کم نما تیرے خدو خال دکھانے کے لیے
دن بناتے ہیں کبھی رات گھڑی جاتی ہے
شعر کو پورا کروں بات ادھوری رکھوں
قافیہ برتوں تو الہامی گھڑی جاتی ہے
اس کو اندازہ نہیں شاخ جھڑی جاتی ہے
اب یہ بندھن مری سانسوں کے لیے بندش ہے
اب انگوٹھی مری انگلی میں گڑی جاتی ہے
ایک جلوہ کہ جسے دل میں چھپایا ہوا ہے
اور دنیا مری آنکھوں سے سڑی جاتی ہے
آنکھ جھپکوں تو مرا وقت گزر جاتا ہے
ہاتھ جھٹکوں تو کلائی سے گھڑی جاتی ہے
کم نما تیرے خدو خال دکھانے کے لیے
دن بناتے ہیں کبھی رات گھڑی جاتی ہے
شعر کو پورا کروں بات ادھوری رکھوں
قافیہ برتوں تو الہامی گھڑی جاتی ہے

